Monthly Archives: May 2017

  • 0

آزادی صحافت کے بغیر جمہوریت کا وجود ممکن نہیں، یونینز کی تقسیم کو ختم کرکے متحد ہونا ہوگا:لاہور پریس کلب میں منعقدہ سیمینار میں سینئر صحافیوں کا اظہار خیال

Category : Uncategorised

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ضیاءآمریت کے دور میں آزادی صحافت کےلئے کوڑے کھانے والے صحافیوں کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے لاہور پریس کلب میں ’’ آزادی صحافت ‘‘  سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی 13مئی 1978ءکو کوڑوں کی سزاپانے والے سینئر صحافی خاور نعیم ہاشمی، ناصر زیدی اور مسعود اللہ خان تھے ۔ سیمینار سے صدر پریس کلب محمد شہباز میاں، سیکرٹری عبدالمجید ساجد، صدر پی یو جے شہزاد حسین بٹ، بزرگ صحافی حسین نقی، چوہدری خادم حسین،سید امتیاز راشد، راجہ اورنگزیب، صدر لاہور ہائی کورٹ بار چوہدری ذوالفقار نے بھی خطاب کیا ۔

سینئر صحافی خاور نعیم ہاشمی نے کہا کہ جنرل ضیاءکے دور میں صحافی برادری نے پوری قوم کیلئے جنگ لڑی ، اس دور میں کسی بھی ایڈیٹر کو جیل میں ڈالنا نہایت آسان تھا مگر آج کے جمہوری دور میں یہ آسان نہیں ہے ، آزادی صحافت کے بغیر جمہوریت کا وجود ممکن نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ یونینز کی تقسیم کو ختم کرکے متحد ہونا ہوگا۔سینئر صحافی ناصر زیدی نے کہا کہ صحافت کی آزادی ہمارا نصب العین ہے ، ہمیں ویج بورڈ پر عملدرآمد کیلئے بھی جدو جہد کرنا ہوگی جو کہ صرف اور صرف متحد ہو کر ممکن ہے ، ہم اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر ہی صحافیوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کر سکتے ہیں ۔ سینئر صحافی مسعود اللہ خان نے کہا کہ آج مالکان کے حقوق کے تحفظ کیلئے یونینز متحد نہیں ہو رہی ہیں، پاکستان میں آزادی صحافت کیلئے صحافیوں نے جتنی بڑی جنگ لڑی وہ شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک میں لڑی گئی ہو،آزادی کے اس دور میں بھی آمرانہ جمہوریت ہے اور آج صحافیوں کی پیٹھ پر نہیں پیٹ پر کوڑے مارے جاتے ہیں۔ بزرگ صحافی حسین نقی نے کہا کہ یونینز کے تمام گروہوں کو ختم کرکے متحد کیا جائے ، ٹکڑوں میں بٹنے سے صرف مالکان کو فائدہ ہوتا ہے ورکر کو نہیں، پاکستان کے اداروں کو آئین پر عملدرآمد کرنا ہوگاجس سے جمہوریت مضبوط ہوگی۔ محمد شہباز میاں نے کہا کہ میرے خیال میں 13 مئی آزادی صحافت میں ایک روشن دن ہے ، اس دن جابر سلطان سے کوڑے پڑے مگر پھر بھی ہم نے سچ کہا ، ہمیں فخر ہے کہ ہم نے آزادی صحافت کیلئے کوڑے کھائے، ہمیں متحد ہونے کیلئے سینئرز کی اشد ضرورت ہے ،سینئرز کو صحافیوں کے اتحاد کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

صدر پی یو جے شہزاد حسین بٹ نے کہا کہ ہمیں 13 مئی 1978 کو حق سچ کی بات کہنے پر کوڑے کھانے والے صحافیوں پر فخر ہے ، مگر آج حالات یہ ہیں کہ عالمی دنیا میں ہم آزادی صحافت کے پیمانے میں بہتری کے باوجود نچلے درجہ پر ہیں، ہمیں متحد ہوکر حق سچ کی بات کر نی ہوگی، انہوں نے کہا کہ جو چینل یا اخبار ورکرز کو بروقت تنخواہ ادا نہیں کرے گا اس کے خلاف ہم سراپا احتجاج ہوں گے۔لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری ذوالفقار نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد جس طرح شب خون مارا گیا اور آزادی صحافت پر قدغن لگائی گئی اس کی لمبی تاریخ ہے، آج صحافت جس مقام پر موجود ہے میں سینئرز کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔آزادی صحافت سے راجہ ریاض، علامہ صدیق اظہر اور افتخار شاہد ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ آج کا دن ان سپاہیوں کے نام ہے جنہوں نے آزادی صحافت کیلئے اپنی پیٹھ پر کوڑے کھائے، وہ ایک سیاہ دور تھا اور موجودہ دور بھی صحافیوں کیلئے بہتر نہیں ہے، 13 مئی کو سچ بولنے کی پاداش میں ہمارے ساتھیوں کو کوڑے مارے گئے ، پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں صحافیوں پر کوڑے برسائے گئے ، انہوں نے کہا کہ کارکن صحافیوں کو متحد ہونا پڑے گا ہمیں آج بھی جدو جہد کی ضرورت ہے ۔ سیمینار میں نائب صدر زاہد گوگی، ممبران گورننگ باڈی قاسم رضا، شاہنواز رانا، اسماعیل جکھڑ، رضوان خالد، نعمان وہاب اور ناصر غنی بھی شریک تھے ۔تقریب کے اختتام پر صدر محمد شہباز میاں نے 13 مئی 1978 کے ہیرو سینئر صحافی خاور نعیم ہاشمی، ناصر زیدی اورمسعود اللہ خان کی جدو جہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں یادگاری شیلڈز اور پھول پیش کئے